منگل 9 جون 2026 - 18:17
ایران غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے بھی سرگرمِ عمل ہے: حماس

حوزہ/ حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا ہے کہ ایران نے غزہ سمیت خطے میں جاری تنازعات کے خاتمے کے لیے اپنی سفارتی کوششوں سے حماس کو آگاہ کیا ہے۔ انہوں نے فلسطینی مزاحمت کی سیاسی، مالی اور عسکری حمایت پر ایران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے غزہ میں جنگ بندی کے لیے جاری مذاکرات کے حوالے سے مثبت پیش رفت کی امید ظاہر کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا ہے کہ ایران نے غزہ سمیت خطے میں جاری تنازعات کے خاتمے کے لیے اپنی سفارتی کوششوں سے حماس کو آگاہ کیا ہے۔ انہوں نے فلسطینی مزاحمت کی سیاسی، مالی اور عسکری حمایت پر ایران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے غزہ میں جنگ بندی کے لیے جاری مذاکرات کے حوالے سے مثبت پیش رفت کی امید ظاہر کی۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران خطے میں جاری کشیدگی، بالخصوص غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی سطح پر سرگرم کوششیں کر رہا ہے اور اس حوالے سے اپنی کاوشوں سے حماس کو بھی آگاہ کیا ہے۔

المیادین کے مطابق حازم قاسم نے کہا کہ ایران فلسطینی مزاحمت کی سیاسی، عسکری اور مالی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے اور فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی اور پشتیبانی پر قائم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس کی کوشش ہے کہ غزہ خطے کی تمام سیاسی اور سفارتی سرگرمیوں کا مرکزی موضوع رہے تاکہ جاری حملوں کا خاتمہ اور جنگ بندی ممکن بنائی جا سکے۔

انہوں نے قاہرہ میں جاری مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حماس سیاسی حل اور مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے ہوئے ہے۔ ان کے بقول قاہرہ میں پیش کی جانے والی ہر معقول اور قابلِ قبول تجویز کا مثبت انداز میں جائزہ لیا جائے گا، جبکہ تحریک جلد از جلد ایسے معاہدے تک پہنچنے کے لیے سنجیدہ ہے جو غزہ میں جاری جنگ کو روکنے، عوامی مشکلات میں کمی لانے اور اسرائیلی حملوں کے خاتمے کا سبب بن سکے۔

حماس کے ترجمان نے مزید کہا کہ تحریک خطے میں یکجہتی کے فروغ کو موجودہ دور کی اہم ترین ضرورت سمجھتی ہے۔ انہوں نے لبنان پر اسرائیلی حملوں اور اس کے ردعمل میں محورِ مقاومت کی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے ایران اور یمن کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو سراہا۔

حازم قاسم نے عالمِ اسلام سے اپیل کی کہ فلسطین اور لبنان کے عوام کے ساتھ عملی یکجہتی کو اپنی فوری ذمہ داری سمجھا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ علاقائی بحرانوں کے مقابلے کے لیے اسلامی ممالک کے درمیان سیاسی تعاون، عوامی حمایت اور مشترکہ یکجہتی کو مزید مضبوط بنایا جانا چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha